کراچی نصابی تعلیم کے ساتھ ووکیشنل تعلیم کا بھی بندوبست


کراچی(اسٹاف رپورٹر) پروفیسر ڈاکٹر ایم جلیسی نے کہا ہے کہ صحت وتعلیم کا فروغ، غربت اور کرپشن کا خاتمہ ہماری ترجیحات ہونا چاہئے۔ ملک کے حالات اور بدلتے تناظر میں قوم کی ذمہ داری میں اضافہ ہو گیا ہے۔ افواج ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سرگرم ہیں۔ ایسے میں سول سوسائٹی سے پڑھے لکھے لوگوں کو آگے آنا چاہئے۔ میں نے ذاتی طور پر مختلف حیثیتوں میں ہمیشہ ملکی اور قومی بہتری کیلئے اقدامات کئے۔ ڈسٹرکٹ سطح پر پہلی بار سندھ میں ڈاکٹروں کی تعیناتی کا آغاز کیا۔ تعلیمی اداروں میں نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ ووکیشنل تعلیم کا بھی بندوبست ہونا چاہئے۔ یہ بات انہوں نے یہاں آرٹس کونسل اسٹیج شو کمیٹی کے زیراہتمام اپنے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔شہناز صدیقی نے خطبہ استقبالیہ میں ڈاکٹر جلیسی کو خراج تحسین پیش کیا۔ تقریب سے دوست محمد فیضی، سراج الاسلام بخاری، فاطمہ ثریا بجیا، الحاج شمیم الدین، پروفیسر سحر انصاری، اعجاز محمود، ڈاکٹر جاوید عالم، ڈاکٹر طارق رفیع، ڈاکٹر ایس اے صدیقی، ڈاکٹر قیصر سجاد، انور عزیز جکارتہ والا، آرٹس کونسل کے سیکرٹری محمد احمد شاہ اور پروفیسر اعجاز احمد فاروقی نے خطاب کیا۔ فاطمہ ثریا بجیا نے کہا کہ جلیسی نہایت دیانتدار ہمدرد معالج کی حیثیت سے شہرت کے حامل ہیں۔ ان کی خدمات لائق تحسین ہیں۔ پروفیسر سحر انصاری نے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر جلیسی پرانی اقدار اور اخلاق کے حامل معالج ہیں۔ ڈاکٹر ایس اے صدیقی نے کہا کہ وہ قومی سوچ کے مالک ہیں۔ انہوں نے ای این ٹی سرجری کو بین الاقوامی نام دیا۔ الحاج شمیم الدین نے کہا کہ ڈاکٹر جلیسی بہت باکمال شخصیت ہیں۔ انسانی تہذیب اور معاشرتی ذمہ داریوں سے آگہی رکھتے ہیں۔ شہناز صدیقی، آرٹس کونسل کے اعزازی سیکرٹری محمد احمد شاہ نے اظہار تشکر کیا۔ شکریہ جنگ