فیسوں میں 15 تا 60 فیصد اضافہ ، محکمہ تعلیم نجی اسکولوں کے خلاف کارروائی نہیں کرسکا

کراچی: صوبائی محکمہ تعلیم 3 ماہ گزرنے کے باوجود کراچی کے بڑے اور معروف نجی اسکولوں کی جانب سے 15 تا 60 فیصد تک اضافہ کی گئی فیسوں کو نہیں روک پایا جس کا فائدہ اٹھا کر مزید کئی اور اسکولوں نے اپنی فیسوں میں اضافہ کردیا ان اسکولوں نے سال کے دوران اپنی ٹیوشن فیسوں میں اس وقت اضافہ کیا جب سندھ سیلاب سے شدید متاثر تھا۔ اس وقت سیکریٹری تعلیم سندھ علم الدین بلو تھے جن کی جانب سے فیسوں میں کمی کو روکنے کا کوئی سنجیدہ نوٹس نہیں لیا گیا بعض اسکولوں کے مالکان نے سیکریٹری تعلیم اور اسپیشل سیکریٹری تعلیم وسیم عرسانی سے ملاقات کی تھی جس کے بعد ان اسکولوں کو محض نوٹس دے کر خاموشی اختیار کر لی گئی۔
کراچی کے بڑے اور معروف نجی اسکولوں کی جانب سے ماہانہ ٹیوشن فیس میں 15 تا 60 فیصد اضافہ ایک ریکارڈ ہے کسی دور میں نجی اسکولوں نے اس ماہانہ ٹیوشن فیسوں میں یکمشت اتنا اضافہ نہیں کیا جتنا گزشتہ جند ماہ کے دوران کیا گیا۔ صوبائی محکمہ تعلیم نجی اسکولوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہے۔
15 تا 60 فیصد اضافہ سندھ کے نجی اسکولوں کی جانب سے ایسے وقت کیا گیا جب سندھ سیلاب سے تباہ اور سندھ کے 18 ڈسٹرکٹ سیلاب سے متاثر ہیں۔صوبائی محکمہ تعلیم کسی نجی اسکول کو فیسوں میں اضافے سے نہیں روک سکا ہے اور ابھی فیس برھانے والے کسی ایک اسکول کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے صرف برائے نام کارروائی کرتے ہوئے خط دیا گیا ہے قوائد کے مطابق نجی اسکول سال میں ایک مرتبہ 5 فیصد فیس محکمہ تعلیم کی منظوری کے بعد بڑھا سکتے ہیں معروف نجی اسکولز اس پر عمل ہی نہیں کرتے۔جن اسکولوں نے اپنی فیسوں میں 15 تا 60فیسوں میں اصافہ کیا ان میں سٹی اسکول (ڈیفنس) کے جی 32 فیصد، سٹی اسکول (درخشاں) پرائمری40 فیصد، سٹی اسکول (درخشاں) او لیول 31 فیصد، سٹی اسکول (پی ای سی ایچ ایس ایریا) کے جی 33 فیصد، سٹی اسکول (پی ای سی ایچ ایس ایریا) پرائمری37 ،سٹی اسکول پی اے ایف چیپٹر پرائمری 15 فیصد، سٹی اسکول پی اے ایف چیپٹر اے لیول 19 فیصد، سٹی اسکول (گلشن) پرائمری میڈل 43 فیصد، سٹی اسکول (گلشن) او لیول 30 فیصد، سٹی اسکول (گلشن) اے لیول 27 فیصد، سٹی اسکول (نارتھ ناظم آباد) کے جی 33 فیصد، سٹی اسکول (نارتھ ناظم آباد) پرائمری27 فیصد، سٹی اسکول (نارتھ ناظم آباد) او لیول51 فیصد، سٹی اسکول (نارتھ ناظم آباد)اے لیول 30 فیصد فیلکن ہاوس گرامر اسکول (نارتھ ناظم آباد) او لیول 25 فیصد، فیلکن ہاوس گرامر اسکول (نارتھ ناظم آباد)اے لیول 26 فیصد، فاو نڈیشن پبلک اسکول (کالا پل) او لیول 20 فیصد، فاونڈیشن پبلک اسکول (کالا پل)اے لیول 23 فیصد، کراچی گرامر اسکول پرائمری 50 فیصد، کراچی گرامر اسکول اے لیول 30 فیصد، داؤد پبلک اسکول 20 فیصد، دی سی اے ایس اسکول کے جی 15 فیصد، سی اے ایس اسکول میڈل35 فیصد، دی سی اے ایس اسکول او لیول 22 فیصد، فرابلزپرائمری 60 فیصد، فرابلز او لیول 28 فیصد،حق اکیڈمی میڈل28 فیصد، حق اکیڈمی او لیول 54 فیصد،بیکن ہاوس اسکول سسٹم (کراچی) 15 فیصد شامل ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کی رجسٹرار رفیعہ ملاح نے کہا کہ ان اسکولوں کو فیسوں میں اضافے پر ایک مرتبہ نوٹس دے چکے ہیں انہوں نے کہا کہ بعض نجی اسکولوں نے عدالت میں مقدمات دائر کر رکھے ہیں مگر اس کے باوجود ڈائریکٹوریٹ اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہے ۔ صوبائی اسمبلی میں بھی نجی اسکولوں کی جانب سے فیسوں میں اضافے پر آواز اٹھا چکی ہے
جبکہ صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہر الحق نے بھی ہمیں سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے تاہم اس حوالے سے سینئر وکیل کی خدمات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے تمام اسکولوں کے خلاف کارروائی کریں گے جنہوں نے بلااجازت فیس بڑھائی ہے انھوں نے کہا ہمارا ایکٹ صوبائی اسمبلی نے منظور کیا ہے جس کے روسے کوئی اسکول بھی اپنی فیسوں میں 5 فیصد سے زائد اضافہ نہیں کرسکتا تاہم والدین کو بھی آگے آنا چاہئے وہ ذایئد فعسوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔