قائم مقام شیخ الجامعہ پروفیسرڈاکٹرشاہانہ عروج کاظمی نے کہا ہے کہ”عورتوں کی شمولیت کے بغیر ملکی ترقی ممکن نہیں،پاکستانی خواتین کے حقوق کی جدودجہد ابتدائی مراحل میں ہے- قائداعظم خواتین کو برابر کے حقوق دینے کے خواہشمند تھے انہوں نے مسلم لیگ کی جدوجہد میں بھی خواتین کو ساتھ رکھا-آج سیلف ایمپلائیڈ وویمنز کو وہ حقوق حاصل نہیں جو کہ ان کا حق ہے- یہ بات انھوں نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر سینٹر آف ایکسیلینس فاروویمنز وشعبہ سماجی بہبود جامعہ کراچی اور منسٹری آف ویمن ڈیولپمنٹ ،ہائیرایجوکیشن وانجمن ترقی نسوان کے باہمی تعاون سے منعقدہ ایک روزہ سیمینار سے اپنے خطاب میں کہی- مہمان خصوصی رضا ہارون وزیربرائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حقوق دینے والا اگر سامنے والے کو انسان سمجھ لے تو پھر حقوق ملتے ہیں مگر ہمارے ہاں تو انسان کو بحیثیت انسان ہی حقوق حاصل نہیں ہیں ایسے ماحول میں خواتین کے حقوق کی بات کرنا قابل جراّت اقدام اور لائق تحسین ہے انہوں نے کہا کہ آئین ہمیں برابری کے حقوق دیتا ہے مگر ہمارے معاشرے میں ایسا نہیں ہے جس کی وجہ جاگیردارانہ فرسودہ نظام کا وجود ہے اس جاگیردارانہ نظام کو بدلے بغیر خواتین تو کیا مردو کو بھی حقوق نہیں مل سکتے- یہ معاشرہ جاگیرداروں اور وڈیروں کا معاشرہ ہے کہ جن کے اپنے گھروں میں عورتوں کو حقوق حاصل نہیں ، ایسے میں معاشرتی سطح پر عورتوں کو کیسے حقوق مل سکتے ہیں- انہوں نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ نے خواتین کے حقوق کے لیے سب سے زیادہ عملی کوششیں کیں ہیں اور آئندہ بھی یہ کوششیں جاری رہیں گی- اس موقع پر انہوں نے سینٹر ایکسیلینس آف وویمنز جامعہ کراچی کو ویب سائیڈ اور آئی ٹی سے متعلق ہر قسم کی مدد کی پیشکش کی اور اورامدادی چیک بھی دیا- نسرین جلیل ،سابق نائب ناظمہ شہری حکومت کراچی نے اپنے خطاب میں کہا کہ خواتین کے حقوق کے حصول کے لیے ہمیں اپنی سوچ میں بھی تبدیلی لانا ہوگی- خواتین کو حقوق دینے کے لیے سوچ میں تبدیلی کا آغاز ہمیں اپنے گھر سے کرنا ہوگا- آج ہم اپنے گھر میں بیٹے اور بیٹی کے ساتھ سلوک میں تفریق رکھتے ہیں
یہ تفریق ختم ہونی چاہیے- جب تک سیاسی جماعتیں خواتین کے حقوق کو اپنے منشور میں جگہ نہیں دیں گی، تبدیلی ممکن نہیں- ہماری جماعت نے اس سلسلے میں عملی مظاہرہ کیا اور ایوانوں میں صرف مخصوص نشتوں پر ہی نہیں جنرل نشستوں پر بھی خواتین کونمائندگی کا حق دیا- پروگرام کے دوسرے سیشن سے ، ندیم اللہ ، مس شگفتہ ، مس اسماء منظور ، مس نفیسہ بانو ، پروفیسرڈاکٹرطاہرہ آفتاب نے بھی خطاب کیا- شکریہ جنگ